Question of Corruption – by Wajahat Masood

مسلم تاریخ کے ابتدائی برسوں ہی میں خوارج کا مسئلہ اٹھ کھڑا ہوا۔ مدینہ کے کسی شہری نے حضرت علی سے سوال کیا کہ آخر خارجیوں میں کیا خرابی ہے ، باتیں تو بہت اچھی کرتے ہیں۔ مولا علی نے فرمایا ٴٴوہ سچ کہتے ہیں لیکن سچ کو باطل کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

صاحب خارجیوں کا طریقۂ واردات یعنی ایک جزوی سچ کو پوری حقیقت سے علیحدہ کر کے اپنے مقاصد کے لیے اچھالنا پاکستان کی تاریخ میں بہت استعمال ہوا۔ پاکستان کا مطالبہ ہی لے لیں۔ تقسیم کیسے ہو گی؟ تقسیم کی حدود کیا ہوں گی؟ باقی ماندہ ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمانوں کا کیا ہو گا؟ پاکستان کی غیر مسلم آبادی کا کیا بنے گا؟ مسلم اکثریتی بنگال اور شمال مغربی ہندوستان کے جغرافیائی طور پر غیر متصل منطقوں میں رابطے کی کیا صورت ہو گی؟ پاکستان کی معیشت کیا ہو گی؟ برطانوی ہندوستان میں موجود ریاستوں کا الحاق کس اصول کی بنیاد پر ہو گا؟ پاکستان مسلم اکثریتی ملک ہو گا یا روایتی مسلم ذہن میں موجود غیر تاریخی اسلامی ریاست ہو گا؟ ان سوالات پر غور کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی۔ اونٹ پر بیٹھنے کے شوق میں کوہان کا خیال ہی نہیں آیا۔

پاکستان بننے کے بعد جدید تعلیم یافتہ مسلمانوں کے ہاتھ قائد اعظم کی ایک تقریر آ گئی ۔ حیدر آباد دکن کے ایک پیش امام شبیر احمد عثمانی اور لیاقت علی خان کی ریشہ دوانی سے مولوی لوگ کے ہاتھ قراردادِ مقاصد لگ گئی۔ ان دو ڈنڈوں سے مسلح یہ دونوں طبقے دس برس تک گڑ کی اس بھیلی پر بندروں کی طرح لڑتے رہے، جسے آئین کہتے ہیں۔ اس سے اگلے دس برس اچھے خاصے باشعور لوگ ایوب خان کے انقلاب میں انٹا غفیل رہے۔ اگلے عشرے میں ہم پر کشف ہوا کہ ذوالفقار علی بھٹو نامی ایک شخص ہے جسے اگر کوہالا پل پر پھانسی دے دی جائے تو پاکستان میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں گی۔ کوہالا پل پر تو نہیں البتہ اڈیالہ جیل میں بھٹو صاحب کو پھانسی دے دی گئی۔ لیکن ہمارے اجتماعی گلے کی پھانس نہیں نکلی۔ اگلے دس برس ہم نے دو شغل اپنائے۔ آدھا ملک تو بندوقیں اٹھا کر ہمسایہ ملک افغانستان کے مسائل حل کرنے چلا گیا اور جو باقی بچے وہ اسلامی نظام کے سراب کے پیچھے چل نکلے۔ شہر کو خالی پا کر جنگلی درندے گلی کوچوں میں گھس آتے ہیں۔ سو آئندہ دس برس یہ درندے فرقوں کے سوال پر پاکستان کے شہریوں کا خون بہاتے رہے۔ امریکا میں تین طیارے بلند عمارتوں سے نہ ٹکراتے تو ہم نے شیعہ، سنی مسئلہ حل کر لیا تھا نیز ہم نے کشمیر بھی حاصل کر لیا ہوتا۔ اور ابھی چار برس پہلے برادرم آصف محمود بقلم خود ٴٴپلکوں میں سپنوں کی حدت لیےٴٴ آزاد عدلیہ ڈھونڈنے نکلے تھے ۔

اب ہماری بے دست و پائی کو ایک نیا شغل ملا ہے۔ ہم نے پاکستان کے اٹھارہ کروڑ لوگوں میں بالآخر ایک شخص ڈھونڈ لیا ہے جو بدعنوان ہے۔ ہمارا یہ واضح فیصلہ ہے کہ اگر آصف علی زرداری نامی اس شخص کا ٹینٹوا دبا لیا جائے تو مہنگائی ختم ہو جائے گی، بجلی کی کمی دور ہو جائے گی، یہ شخص گیس کے پائپ پر پائوں رکھے کھڑا ہے، اسے دھکا دینے سے گیس کی لوڈ شیڈنگ ختم ہو جائے گی، غریبوں کو دو روپے کی روٹی ملے گی، برسات کی کھمبیوں کی طرح اگنے والے مذہبی مدرسوں کو نامعلوم ذرائع سے ملنے والی مالی امداد بند ہو جائے گی، پاکستان میں جگہ جگہ کارخانے کھلیں گے، ترقی یافتہ ممالک ہمارے تعلیمی اداروں کی اسناد تسلیم کرنا شروع کر دیں گے، کاندھوں پر ڈالروں کی گٹھریاں اٹھائے غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان کا رخ کریں گے۔ مختصر یہ کہ ہماری داستانوں کی روایتی جوان عورت کہنیوں تک سونے کے کنگن پہنے، سولہ سنگھار کیے، کراچی سے چل کرپشاور تک جائے گی اور اسے کسی قسم کا خوف نہیں ہو گا۔

چونکہ قوم کی تعمیر، وفاق کے استحکام، نظامِ حکومت اور معاشی ترقی کا ہمارا اجتماعی تجربہ نہایت کامیاب رہا ہے اور ہم نے اپنے تمام قومی نصب العین کامیابی سے حاصل کر لیے ہیں۔ چنانچہ یقین رکھنا چاہیے کہ آصف علی زرداری کو گرانے کا منصوبہ بھی کامیابی سے ہمکنار ہو گا۔

بدعنوانی کا یہ بھیڑیا ساٹھ برس سے ایک سائے کی طرح ہمارے ساتھ چل رہا ہے۔ ہم نے لیاقت علی خان کی وزارتِ عظمیٰ میں ٴپروڈاٴ نامی ایک قانون بنایا جس کی مدد سے بدعنوان سیاست دانوں پر پابندیاں لگائی گئیں۔ ایوب خان نے ایبڈو نامی ایک قانون بنایا اور سیاست دانوں کی ایک پوری نسل کو، جو نہایت بدعنوان تھی، سیاست سے بے دخل کر دیا۔ اس کے بعد گندھارا انڈسٹریز کی بنیاد رکھی گئی۔ ایوب خان اور ان کے ساتھیوں کی دیانت داری کے باعث ہماری تاریخ میں گندھارا تہذیب کو بلند مقام حاصل ہے ۔ یحییٰ خان چونکہ ایک نہایت مستعد، بالغ الذہن اور سیدھے سادھے سولجر تھے انہوں نے 303 بدعنوان اہلکار نکال باہر کیے۔ بھٹو صاحب کی حکومت انقلابی تھی، انہوں نے 1300 بدعنوان پکڑ لیے۔

صاحب ہم نے اتنے بدعنوان نکالے لیکن ہمارا کنواں پاک نہیں ہوا۔ چنانچہ امیر المومنین ضیاالحق کے سریر آرائے مسند ہونے کے بعد ہم نے اخبارات میں اداریے لکھے کہ ٴپہلے احتساب اور پھر انتخابٴ۔ ہم نے نیشنل سنٹر کے سیمیناروں میں صدرِ محترم سے التجائیں کیں کہ ٴجنابِ صدر احتساب شروع کریںٴ۔ یاد رکھیے کہ وہی صدر محترم ہوتا ہے جو فوجی وردی میں ملبوس ہو۔ چاروں صوبوں کے منتخب نمائندوں کے ووٹ سے منتخب ہونے والے کسی شخص کو ہم احترام کا سزاوار نہیں سمجھتے۔ ضیاالحق صاحب گیارہ برس قوم کا احتساب کرتے رہے۔ منجملہ دیگر عنایات کے، انہوں نے ہمارے آئین کی دودفعات62 اور 63 میں اپنی مومنانہ بصیرت سے کام لے کر کچھ ایسے اضافے کیے جن کی مدد سے اگر صحیح احتساب کیا جائے تو پاکستان کا ہر شہری قابلِ گردن زدنی ٹھہرے گا ، سوائے ان اہل صفا کے جن کی پشت پر ٴصالحیتٴ کی ایسی ہی مہر ہو گی جیسی ڈنگر ڈاکٹر صحت مند جانوروں کی تھل تھلاتی راسوں پر ثبت کرتا ہے۔

ضیاالحق صاحب کی خود کاشتہ ذریات کو بھی احتساب کا شغل عزیز رہا۔ قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں جیسے اوصافِ حمیدہ رکھنے والے ایک رجل رشید سیف الرحمن کی سربراہی میں احتساب بیورو بنایا گیا تھا۔ تاہم بات کچھ بنی نہیں۔ غالباً کسی سازش کے باعث احتساب کامیاب نہ ہو سکا۔ چنانچہ ایک نہایت درد مند عسکری سالار جنرل پرویز مشرف کو مداخلت کرنا پڑی۔ جنہوں نے نیب نامی ایک ادارہ قائم کیا۔ نازی جرمنی کے عقوبت خانوں کے دروازے پر لکھا ہوتا تھا۔ ٴٴکام کرنے ہی میں آزادی ہےٴٴ۔ پرویز مشرف کے قائم کردہ نیب کے صدر دروازے پر کندہ تھا۔
آدمی ہے وہ بھلا، در پہ جو رہے پڑا

چنانچہ جن مصفا ہستیوں نے پرویز مشرف کی چوکھٹ پر سجدہِ سہو کیا، وہ دھل دھلا کر ایسے پاک صاف ہو گئے جیسے شیر خوار بچہ۔ تاہم کچھ ایسے فتنہ پرور اور بدعنوان لوگ تھے جنہوں نے جیلیں کاٹیں، جن پر تشدد کیا گیا، لیکن وہ اصلاح پر مائل نہیں ہوئے۔ آج کل قوم کو انہی عناصر کا احتساب مطلوب ہے۔

سوال یہ ہے کہ پاکستان کو لاحق کرپشن مالی ہے یا فکری؟ انتظامی ہے یا سیاسی؟ یہ امر تو طے ہے کہ اس ملک میں رہنے والوں کا حال اچھا نہیں۔ ان کی جیب میں اتنے پیسے نہیں کہ وہ اپنی بنیادی ضروریات پوری کر سکیں۔ ہم ان کے ذہنوں کو تعلیم کی دولت نہیں دے سکے۔ انہیں روزگار کا تحفظ نہیں دے سکے۔ اس ملک کے قوانین اچھے نہیں۔ عورتوں کے لیے اور قانون ہے جب کہ مردوں کے لیے اور۔ کچھ قانون مسلم اور غیر مسلم شہریوں میں تمیز کرتے ہیں۔ بہت سے قوانین ناقابل عمل ہیں لیکن ہم ایک نظریاتی قوم ہیں جسے ناقابل عمل اور امتیازی قوانین سے بہت محبت ہے اگرچہ اس کے نتیجے میں شہریوں کو قانون کے تحفظ سے محروم ہونا پڑتا ہے۔ ایک عام شہری سڑکوں پر چمک دار گاڑیاں دیکھتا ہے۔ دکانوں میں ایسی اشیا دیکھتا ہے جنہیں خریدنے کے بارے میں وہ سوچ بھی نہیں سکتا۔ ان حالات میں اس کا یہ سوچنا بالکل قدرتی ہے کہ کہیں نہ کہیں کچھ ایسی بدعنوانی ضرور ہو رہی ہے جس کے ہاتھوں اس کا جینا حرام ہو رہا ہے۔ اس ملک میں ٴٴانصافٴٴ کے لیے ایک تحریک بھی قائم کی گئی ہے۔ ایک آزاد، باکردار، نہایت دیانت دار نیز ٹیکس گزار میڈیا بھی موجود ہے جو اسے بتاتا رہتا ہے کہ ٴزید یہ کھا گیا ، بکر وہ پی گیا اور عمر وہ لے کے بھاگ گیاٴ۔ چنانچہ عام شہری کی سوئی بدعنوانی پر آکر اٹک جاتی ہے۔ جسے وہ ہماری جدید لغت میں ٴکرپشنٴ کہنا پسند کرتا ہے۔

یہ امر معنی خیز ہے کہ اردو کے اخبارات اور ٹی وی چینل ٴبدعنوانیٴ کی بجائے ٴکرپشنٴ کے انگریزی لفظ کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان خواتین و حضرات کی انگریزی دانی میں تو کلام نہیں۔ تاہم جملہ ذرائع ابلاغ میں ٴکرپشنٴ کی اصطلاح کو التزام سے بار بار دہرانے کا مقصد دراصل قوم کو ایک نیا نعرہ دینا ہے۔ قوم ٴکرپشنٴ کے خلاف ہو جائے تاکہ جسے ہم ٴکرپٹٴ قرار دیں، اسے سنگسار کیا جا سکے۔

انگریزی لغت میں کرپشن کے معنی وسیع ہیں۔ کرپشن کا مطلب ہے ایسی خرابی جس سے پورا نظام اتھل پتھل ہو جائے۔ کمپیوٹر استعمال کرنے والے جانتے ہیں کہ ٴسسٹم کرپٹٴ ہونے سے کمپیوٹر کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ تو صاحب ٴکرپشنٴ کا مفہوم ناجائز ذرائع سے دولت کمانے تک محدود نہیں۔ اگر ٴکرپشنٴ دور کرنا ہے تو سسٹم میں موجود ٴکرپشنٴ کی درست نشاندہی کرنا ہو گی۔ آخر کوئی وجہ تو ہے کہ دوسری قومیں ترقی کر رہی ہیں اور ہمارے دھان سوکھے ہیں۔

ہمارے سسٹم کی کرپشن یہ ہے کہ ہم حقائق کی پیچیدگی کا ادراک کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ اور حقائق کی روشنی میں اپنے حالات پر غور و فکر سے قاصر ہیں کیونکہ ہم نے اس ملک کے رہنے والوں کو یہ نہیں بتایا کہ ہمارے ملک کا معاشی حجم کیا ہے؟ ہمارے ہمسایہ ممالک میں معاشی حقائق کیا ہیں؟ ہمارے کل وسائل کیا ہیں اور ہم وہ وسائل کہاں خرچ کرتے ہیں؟ ہم جس دنیا میں رہتے ہیں، اس کی تلخ سیاسی اور معاشی حقیقتیں کیا ہیں؟ سماجی نظام کا سیاسی نظام سے کیا تعلق ہوتا ہے؟ سیاسی نظام کا معاشی ڈھانچوں سے کیا رشتہ ہوتا ہے۔ ہمارے ملک کے وسائل کتنی آبادی کے متحمل ہو سکتے ہیں؟ یہ امر سمجھ سے بالا ہے کہ بچے ہم مولوی سے پوچھ کر پیدا کرتے ہیں اور روزگار حکومت سے مانگتے ہیں ۔ اگر ہم بھیتر کی خرابی پکڑنے پر تیار ہی نہیں، اگر ہم ٴتعمیر میں مضمر خرابیٴ کی نشاندہی نہیں کرنا چاہتے تو سسٹم کی کرپشن دور نہیں ہو سکتی۔ پاکستان کے ممتاز مفکر خالد احمد کی اصطلاح میں ہمارا مسئلہ سسٹم کی کرپشن نہیں، سرے سے سسٹم کا نہ ہونا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ پالیسی خراب ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نعرے کو پالیسی سمجھتے ہیں۔ نعرے سے ہنگامہ تو برپا کیا جا سکتا ہے مسائل حل نہیں ہوتے ۔ پالیسی دفاع، خارجہ امور، تعلیم، تجارت، زراعت اور صنعت وغیرہ سے تعلق رکھتی ہے جبکہ اس ملک میں ہم نے صرف حج پالیسی میں سنجیدگی اختیار کی ہے۔

ہمارے ملک کے ٴانصاف پسند حلقےٴ بالکل درست کہتے ہیں کہ کرپشن دور ہونی چاہیے، تمام اداروں اور نظام مملکت میں شفافیت ہونی چاہیے، جنہیں اختیار سونپا جاتا ہے، انہیں جوابدہ بھی ہونا چاہیے۔ جمہوریت کا دوسرا نام جوابدہ حکومت ہے۔ جوابدہ حکومت شفاف ہوتی ہے۔ لیکن اس ملک میں 33 برس تک فوجی آمریت مسلط رہی جو جوابدہ نہیں ہوتی۔ غیر جوابدہ حکومت شفاف نہیں ہو سکتی۔ جس ملک میں ہر دس سال بعد ایک فوجی ناقوس بجاتا ہوا نمودار ہو اور ہم شہنائیاں بجاتے اس کے استقبال کو نکل آئیں۔ نسیم حجازی کی اصطلاح میں ٴٴشاعر چوراہوں میں اس کے قصیدےٴٴ پڑھیں۔ عدالتیں اس کے غیر آئینی ٟچنانچہ کرپٹٞ اقدام کو جائز قرار دیں، اس ملک کاٴٴسسٹمٴٴ شفاف نہیں ہو سکتا۔شفافیت ایک مسلسل عمل کا نام ہے، بجلی کا بٹن نہیں جسے دبانے سے آن کی آن میں قمقمے جل اٹھیں۔
شفافیت، جوابدہ حکومت اور قانون کی بالادستی جدید تصورات ہیں۔ انسانی تاریخ کے کسی حصے اور دنیا کے کسی خطے میں جمہوریت سے زیادہ شفاف اور جوابدہ نظام کبھی دریافت نہیں کیا جا سکا۔ تو شفافیت کے طلب گاروں کو جمہوریت پسند بھی ہونا چاہیے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ شفافیت تو ہم مغرب کے معیار کی مانگیں اور نظام حکومت قرونِ وسطیٰ کا یعنی مطلق العنانیت اور امتیازی قوانین ۔جس میں ایک نیک انسان مسیحا بن کے نازل ہو اور اپنی خداداد بصیرت سے ہمارے مسائل حل کر دے۔

ایک بنیادی نکتہ یہ ہے کہ شفافیت کا تعلق اخلاقیات سے ہے، اوامر و نواہی سے نہیں۔ اخلاقیات کی بنیاد انسانی تجربے سے نچوڑے جانے والے قابلِ عمل اور قابل ترمیم اصول ہوتے ہیں۔ دوسری طرف اوامر و نواہی کی بنیاد مذہب کے ناقابل تبدیل اور حقانی احکامات ہوتے ہیں۔ معاشرے کی بنیاد اوامر اور نواہی پر رکھنے سے منافقت ، بدعنوانی اور مطلق العنانی پھیلتی ہے۔ یزید کا قاضی شریح یقیناً قانون جانتا تھانیز رشوت لیتا تھا۔ اکبر کے دربار میں لاہور کے دو علمائے کرام بھائیوں کو رسوخ حاصل تھا جن کی کرپشن ضرب المثل ہے۔

سلطنتِ عثمانیہ میں ملا کو اہم مقام حاصل تھا اور منافقت کا یہ عالم تھا کہ کرپٹ حکام کے ساتھ ایک ملازم ان کی جائے نماز لے کے چلتا تھا۔ امام احمد حنبل سے لے کر ابنِ رشد تک مسلم تاریخ کے روشن ستاروں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔ اب سید ابو الاعلیٰ مودودی کے اتباع میں یہ نہ کہیے گا کہ وہ تو ملوکیت کی داستانیں ہیں۔ اوامر اور نواہی پر جو معاشرہ تعمیر کیا جائے اس کا ملوکیت کی طرف جانا ناگزیر ہوتا ہے۔تاریخ یورپ میں گرجا کی بالادستی پر محیط صدیوں میں پادری ضمیر فروشی بھی کرتا تھا اور دین فروشی بھی۔ بخشش نامے بھی بیچتا تھا اور تبرکات کے نام پر مردہ جانوروں کی ہڈیاں بھی۔ اوامر اور نواہی پر مبنی معاشرہ انسانی تاریخ میں کبھی شفاف نہیں رہا۔ اوامر و نواہی کا تعلق انسانوں کے عقیدے سے ہے۔ عقیدہ اجتماعی مظہر نہیں، انفرادی ضمیر سے تعلق رکھتا ہے۔ عقیدے کو فرد کے لیے چھوڑ دینا چاہیے اور اجتماعی زندگی کی بنیاد اخلاقیات پر رکھنی چاہیے۔

یورپ کے معاشروں جیسی شفافیت درکار ہے تو یہ سمجھنا ہو گا کہ ان شفاف معاشروں کی بنت کیا ہے؟ مغرب میں لوگ ٹیکس دیتے ہیں، ہم حج ادا کرتے ہیں نیز ہر برس اربوں روپے کے جانور قربان کرتے ہیں لیکن ہم حکومت کو ایک دھیلا ٹیکس دینے پر تیار نہیں۔ ان کے ہاں دودھ کی بوتلیں اور انڈے دروازے کے باہر رکھے رہتے ہیں اور کوئی چوری نہیں کرتا۔ ہمارے ہاں پانی کی سبیل پر رکھے گلاس کو زنجیر باندھی جاتی ہے اور مسجد سے جوتے چوری ہوتے ہیں۔

ان کے ہاں امیر زیادہ ٹیکس دیتا ہے اور غریب سے کم ٹیکس لیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں امیر کم ٹیکس دیتا ہے اور غریب سے زیادہ ٹیکس لیا جاتا ہے۔ ان کی معیشت کی بنیاد صنعت ہے اور ہماری معیشت کی بنیاد زراعت۔ چنانچہ وہ دن بھر کام کرنے کے بعد تفریح پر نکلتے ہیں جبکہ ہمارے اخبارات میں نمازِ استسقا کی اپیل شائع ہوتی ہے۔ وہ وقت پر دفتر آتے ہیں اور پورا وقت دیانتداری سے کام کرتے ہیں۔ ہم دیر سے دفتر پہنچتے ہیں، چائے پیتے ہیں اور پھر وقفہ نماز کے دوران ایسے غائب ہوتے ہیں کہ واپس دفتر نہیں آتے۔ ان کی برآمدات زیادہ ہیں اور درآمدات کم چنانچہ ان کا معیارِ زندگی مسلسل بلند ہوتا ہے۔ ہمیں ہر برس اربوں ڈالرز کا خسارہ ہوتا ہے کیونکہ ہماری درآمدات زیادہ ہیں اور برآمدات کم۔ وہ اپنے انسانی سرمائے کا معیار بلند کرنے کی فکر میں رہتے ہیں اور ہماری آخری امید زیر زمین معدنیات ہیں۔ ان کے ہاں قانون کے موثر نفاذ کو یقینی بنایا جاتا ہے ، ہمیں سخت سزائوں پر اصرار ہے۔

ان کے تعلیمی اداروں میں وہ تعلیم دی جاتی ہے جسے پا کر طالب علموں میں مسائل کو سمجھنے اور ان کو حل کرنے کا تصور پیدا ہوتا ہے۔ چنانچہ وہ مشین بناتے ہیں، بیماریوں کا علاج ڈھونڈتے ہیں۔ فکر اور فلسفہ میں نئی راہیں تراشتے ہیں۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں وہ تعلیم دی جاتی ہے جسے پا کر ہماری زبان دانی کا اندازہ خاکسار کی کج مج بیانی سے کیا جا سکتاہے۔ ہماری سوچ کی تنگ دامانی کا موازنہ شاہ دولے کے چوہوں سے کیا جا سکتا ہے۔ ہمارا ہنر کپڑا بننے، اینٹیں بنانے اور چمڑا سکھانے تک محدود ہے۔ ہمیں اپنی ادبی روایت پر بہت غرّہ ہے، ادب کا ایک نوبل انعام ہمارے حصے میں نہیں آیا۔ ہم دنیا کی امامت کرنا چاہتے ہیں لیکن ہمارے ملک کی منتخب حکومت اپنی میعاد پوری نہیں کر سکتی۔ دوسری طرف ترقی یافتہ دنیا میں ووٹ عوام کو بقدر اشک بلبل ملنے والی رعایت نہیں ، ایک مسلمہ استحقاق ہے۔ ہمیں اسلامی دنیاسے رشتوں پر ناز ہے لیکن اسلامی دنیا والے ہمارا بنایا ہوا کپڑا نہیں خریدتے۔ جب ہمارے محنت کش اپنے جسم و جاں کا تیل بیچنے ان کے دیسوں میں جاتے ہیں تو ان کے ساتھ غلاموں جیسا سلوک کیا جاتا ہے اور انہیں شہریت ملنے کا کوئی امکان نہیں ہوتا جب کہ مغربی ممالک میں ایک خاص ضابطۂ کار سے گزرنے کے بعد انہیں شہریت مل جاتی ہے۔ اگر معاشرے کو بدعنوانی اور کرپشن سے پاک کرنا ہے تو پھر شفاف نظام کے سب تقاضے پورا کرنا ہوں گے اور خرابی کی تمام صورتوں پر غور کرنا ہو گا۔

اپنی ہی تحریر سے اقتباس پیش کرنا بدتہذیبی کے زمرے میں آتا ہے ۔ تاہم پیش روئوں کی سند سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک اقتباس اس تحریر سے پیش کرنے کی گستاخی کرتا ہوں جو خاکسار نے اکتوبر 2006ئ میں غلام اسحاق خاں کے انتقال پر رقم کی تھی۔تب پرویز مشرف پوری تب و تاب سے برسراقتدار تھے اور آج میثاق جمہوریت پر عمل درآمد کا مطالبہ کرنے والے اصحاب اس دستاویز کو ٴٴدو سابق وزرائے اعظم کا گٹھ جوڑٴٴ قرار دیتے تھے۔

ٴٴبدعنوانی کو مالی خورد برد یا رشوت ستانی تک محدود کرنا انسانی معاشرے کی پیچیدہ نوعیت اور جدید اداروں کے کردار سے لاعلمی کی نشانی ہے۔ مالی بدعنوانی بے شک معاشی اور سماجی ترقی کے لیے زہر کا درجہ رکھتی ہے تاہم مہذب معاشرے میں سب سے خطرناک انفرادی بدعنوانی کسی حکمران کے اقتدار کا ناجائز ہونا ہے۔ اجتماعی سطح پر بدعنوانی کی بدترین صورت اداروں کا اپنے آئینی دائرۂ کار سے تجاوز کرنا ہے۔
انفرادی دیانت داری کا پھول ایسے معاشروں میں بہار دیتا ہے جہاں عوام کے امکان پر اعتماد کیا جاتا ہو، جہاں قانون کی بالادستی قائم ہو، جہاں علم، دستور اور ضابطے کی مدد سے معیار زندگی میں مسلسل بہتری اجتماعی نصب العین ہو، جہاں رائے کے شخصی اور اجتماعی اظہار پر پابندیاں نہ ہوں، جہاں واقعاتی کوتاہیوں کا سدباب انفرادی پارسائی کی بجائے اختیارات اور احتساب کے اداراتی توازن سے کیا جاتا ہو۔ دیانت داری کی کرن لاقانونیت، سازش اور منافقت کی تاریکی میں نہیں پھوٹتی۔ٴٴ

کرپشن کے خلاف اس مہم میں یہ زاویہ قابلِ غور ہے کہ احتساب کا یہ ہتھیار سیاسی قوتوں ہی پر کیوں آزمایا جاتا ہے۔ احتساب کا یہ نزلہ جمہوری قوتوں ہی پر کیوں گرتا ہے۔ توجہ فرمائیے کہ احتساب کی یہ بکری ہر دس برس بعد ہماری سیاسی قیادت کا بونٹ چر جاتی ہے۔ اس سے انکار نہیں کہ معاشرے میں بدعنوانی موجود ہے اور اسے دور کرنا چاہیے لیکن احتساب کو جمہوریت اور سیاسی عمل کو بے دست و پا کرنے کے لیے استعمال کرنا اپنے پائوں پر کلہاڑا مارنا ہے۔ جمہوریت ہی شفاف اور کرپشن سے پاک معاشرے کی طرف لے کر جاتی ہے۔ دیانت داری کی کونپل لوگوں کے ووٹ لینے والی سیاسی قیادت کے بطن ہی سے پھوٹے گی خواہ پاکستان کے لوگ کسی بھی سیاسی جماعت کو ووٹ دیں۔ کرپشن مٹھی بھر لوگوں سے چند ارب روپے واپس لینے سے دور نہیں ہو سکتی اور نہ ایسا کرنے سے عوام کا معیارِ زندگی بلند ہو گا۔ عوام کی معاشی حالت پیداواری عمل کی طرف رجوع کرنے سے بہتر ہو گی اور پیداواری عمل پر مبنی پالیسیاں سیاسی قیادت ہی دے سکتی ہے۔ حکومت نام ہی پالیسی بنانے کے اختیار کا ہے۔ حکومت معاشرے کی اجتماعی ترجیحات پر نظرثانی کرنے، نیا اجتماعی نصب العین اور نیا قومی بیانیہ مرتب کرنے کے اختیار کا نام ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں مڑ کر دیکھ لیجئے کہ 16اکتوبر 1951ئ کو لیاقت علی خان کے قتل کے بعد یہ اختیار کس سیاسی قائد کے پاس رہا ہے؟ یہ اختیار ذوالفقار علی بھٹو کے پاس تھا اور نہ بے نظیر کے پاس۔ یہ اختیار محمد خاں جونیجو کو مل سکا اور نہ نواز شریف کو ، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہماری سیاسی قیادت ایسی پالیسیاں مرتب نہیں کر سکی جو پاکستان کے عوام کو خوش حالی کی طرف لے جا سکیں۔ کیا مضائقہ ہے کہ کرپشن، احتساب اور اس کے ہاتھوں بے دست و پا ہونے والی سیاسی قیادت کے بارے میں اس بحث کو شیکسپیئر کے ایک اقتباس سے سمیٹا جائے۔

The fault, dear Brutus, is not in our stars,
But in ourselves, that we are underlings

پیارے بروٹس، خرابی ہمارے ستاروں میں نہیں، خود ہم میں ہے۔ اور خرابی یہ ہے کہ ہم بالشتیے ہیں۔ٞ

بشکریہ : مشرق لاہور 1,2,3

Advertisements

About aliarqam

Highly opinionated Journalist | Working at Newsline | Writing on Karachi | Life, People & Politics | Living in the age of conformity: Unfit at either side of the Divide

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: