Question of Corruption – by Wajahat Masood

مسلم تاریخ کے ابتدائی برسوں ہی میں خوارج کا مسئلہ اٹھ کھڑا ہوا۔ مدینہ کے کسی شہری نے حضرت علی سے سوال کیا کہ آخر خارجیوں میں کیا خرابی ہے ، باتیں تو بہت اچھی کرتے ہیں۔ مولا علی نے فرمایا ٴٴوہ سچ کہتے ہیں لیکن سچ کو باطل کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

صاحب خارجیوں کا طریقۂ واردات یعنی ایک جزوی سچ کو پوری حقیقت سے علیحدہ کر کے اپنے مقاصد کے لیے اچھالنا پاکستان کی تاریخ میں بہت استعمال ہوا۔ پاکستان کا مطالبہ ہی لے لیں۔ تقسیم کیسے ہو گی؟ تقسیم کی حدود کیا ہوں گی؟ باقی ماندہ ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمانوں کا کیا ہو گا؟ پاکستان کی غیر مسلم آبادی کا کیا بنے گا؟ مسلم اکثریتی بنگال اور شمال مغربی ہندوستان کے جغرافیائی طور پر غیر متصل منطقوں میں رابطے کی کیا صورت ہو گی؟ پاکستان کی معیشت کیا ہو گی؟ برطانوی ہندوستان میں موجود ریاستوں کا الحاق کس اصول کی بنیاد پر ہو گا؟ پاکستان مسلم اکثریتی ملک ہو گا یا روایتی مسلم ذہن میں موجود غیر تاریخی اسلامی ریاست ہو گا؟ ان سوالات پر غور کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی۔ اونٹ پر بیٹھنے کے شوق میں کوہان کا خیال ہی نہیں آیا۔

پاکستان بننے کے بعد جدید تعلیم یافتہ مسلمانوں کے ہاتھ قائد اعظم کی ایک تقریر آ گئی ۔ حیدر آباد دکن کے ایک پیش امام شبیر احمد عثمانی اور لیاقت علی خان کی ریشہ دوانی سے مولوی لوگ کے ہاتھ قراردادِ مقاصد لگ گئی۔ ان دو ڈنڈوں سے مسلح یہ دونوں طبقے دس برس تک گڑ کی اس بھیلی پر بندروں کی طرح لڑتے رہے، جسے آئین کہتے ہیں۔ اس سے اگلے دس برس اچھے خاصے باشعور لوگ ایوب خان کے انقلاب میں انٹا غفیل رہے۔ اگلے عشرے میں ہم پر کشف ہوا کہ ذوالفقار علی بھٹو نامی ایک شخص ہے جسے اگر کوہالا پل پر پھانسی دے دی جائے تو پاکستان میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں گی۔ کوہالا پل پر تو نہیں البتہ اڈیالہ جیل میں بھٹو صاحب کو پھانسی دے دی گئی۔ لیکن ہمارے اجتماعی گلے کی پھانس نہیں نکلی۔ اگلے دس برس ہم نے دو شغل اپنائے۔ آدھا ملک تو بندوقیں اٹھا کر ہمسایہ ملک افغانستان کے مسائل حل کرنے چلا گیا اور جو باقی بچے وہ اسلامی نظام کے سراب کے پیچھے چل نکلے۔ شہر کو خالی پا کر جنگلی درندے گلی کوچوں میں گھس آتے ہیں۔ سو آئندہ دس برس یہ درندے فرقوں کے سوال پر پاکستان کے شہریوں کا خون بہاتے رہے۔ امریکا میں تین طیارے بلند عمارتوں سے نہ ٹکراتے تو ہم نے شیعہ، سنی مسئلہ حل کر لیا تھا نیز ہم نے کشمیر بھی حاصل کر لیا ہوتا۔ اور ابھی چار برس پہلے برادرم آصف محمود بقلم خود ٴٴپلکوں میں سپنوں کی حدت لیےٴٴ آزاد عدلیہ ڈھونڈنے نکلے تھے ۔

اب ہماری بے دست و پائی کو ایک نیا شغل ملا ہے۔ ہم نے پاکستان کے اٹھارہ کروڑ لوگوں میں بالآخر ایک شخص ڈھونڈ لیا ہے جو بدعنوان ہے۔ ہمارا یہ واضح فیصلہ ہے کہ اگر آصف علی زرداری نامی اس شخص کا ٹینٹوا دبا لیا جائے تو مہنگائی ختم ہو جائے گی، بجلی کی کمی دور ہو جائے گی، یہ شخص گیس کے پائپ پر پائوں رکھے کھڑا ہے، اسے دھکا دینے سے گیس کی لوڈ شیڈنگ ختم ہو جائے گی، غریبوں کو دو روپے کی روٹی ملے گی، برسات کی کھمبیوں کی طرح اگنے والے مذہبی مدرسوں کو نامعلوم ذرائع سے ملنے والی مالی امداد بند ہو جائے گی، پاکستان میں جگہ جگہ کارخانے کھلیں گے، ترقی یافتہ ممالک ہمارے تعلیمی اداروں کی اسناد تسلیم کرنا شروع کر دیں گے، کاندھوں پر ڈالروں کی گٹھریاں اٹھائے غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان کا رخ کریں گے۔ مختصر یہ کہ ہماری داستانوں کی روایتی جوان عورت کہنیوں تک سونے کے کنگن پہنے، سولہ سنگھار کیے، کراچی سے چل کرپشاور تک جائے گی اور اسے کسی قسم کا خوف نہیں ہو گا۔

چونکہ قوم کی تعمیر، وفاق کے استحکام، نظامِ حکومت اور معاشی ترقی کا ہمارا اجتماعی تجربہ نہایت کامیاب رہا ہے اور ہم نے اپنے تمام قومی نصب العین کامیابی سے حاصل کر لیے ہیں۔ چنانچہ یقین رکھنا چاہیے کہ آصف علی زرداری کو گرانے کا منصوبہ بھی کامیابی سے ہمکنار ہو گا۔

بدعنوانی کا یہ بھیڑیا ساٹھ برس سے ایک سائے کی طرح ہمارے ساتھ چل رہا ہے۔ ہم نے لیاقت علی خان کی وزارتِ عظمیٰ میں ٴپروڈاٴ نامی ایک قانون بنایا جس کی مدد سے بدعنوان سیاست دانوں پر پابندیاں لگائی گئیں۔ ایوب خان نے ایبڈو نامی ایک قانون بنایا اور سیاست دانوں کی ایک پوری نسل کو، جو نہایت بدعنوان تھی، سیاست سے بے دخل کر دیا۔ اس کے بعد گندھارا انڈسٹریز کی بنیاد رکھی گئی۔ ایوب خان اور ان کے ساتھیوں کی دیانت داری کے باعث ہماری تاریخ میں گندھارا تہذیب کو بلند مقام حاصل ہے ۔ یحییٰ خان چونکہ ایک نہایت مستعد، بالغ الذہن اور سیدھے سادھے سولجر تھے انہوں نے 303 بدعنوان اہلکار نکال باہر کیے۔ بھٹو صاحب کی حکومت انقلابی تھی، انہوں نے 1300 بدعنوان پکڑ لیے۔

صاحب ہم نے اتنے بدعنوان نکالے لیکن ہمارا کنواں پاک نہیں ہوا۔ چنانچہ امیر المومنین ضیاالحق کے سریر آرائے مسند ہونے کے بعد ہم نے اخبارات میں اداریے لکھے کہ ٴپہلے احتساب اور پھر انتخابٴ۔ ہم نے نیشنل سنٹر کے سیمیناروں میں صدرِ محترم سے التجائیں کیں کہ ٴجنابِ صدر احتساب شروع کریںٴ۔ یاد رکھیے کہ وہی صدر محترم ہوتا ہے جو فوجی وردی میں ملبوس ہو۔ چاروں صوبوں کے منتخب نمائندوں کے ووٹ سے منتخب ہونے والے کسی شخص کو ہم احترام کا سزاوار نہیں سمجھتے۔ ضیاالحق صاحب گیارہ برس قوم کا احتساب کرتے رہے۔ منجملہ دیگر عنایات کے، انہوں نے ہمارے آئین کی دودفعات62 اور 63 میں اپنی مومنانہ بصیرت سے کام لے کر کچھ ایسے اضافے کیے جن کی مدد سے اگر صحیح احتساب کیا جائے تو پاکستان کا ہر شہری قابلِ گردن زدنی ٹھہرے گا ، سوائے ان اہل صفا کے جن کی پشت پر ٴصالحیتٴ کی ایسی ہی مہر ہو گی جیسی ڈنگر ڈاکٹر صحت مند جانوروں کی تھل تھلاتی راسوں پر ثبت کرتا ہے۔

ضیاالحق صاحب کی خود کاشتہ ذریات کو بھی احتساب کا شغل عزیز رہا۔ قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں جیسے اوصافِ حمیدہ رکھنے والے ایک رجل رشید سیف الرحمن کی سربراہی میں احتساب بیورو بنایا گیا تھا۔ تاہم بات کچھ بنی نہیں۔ غالباً کسی سازش کے باعث احتساب کامیاب نہ ہو سکا۔ چنانچہ ایک نہایت درد مند عسکری سالار جنرل پرویز مشرف کو مداخلت کرنا پڑی۔ جنہوں نے نیب نامی ایک ادارہ قائم کیا۔ نازی جرمنی کے عقوبت خانوں کے دروازے پر لکھا ہوتا تھا۔ ٴٴکام کرنے ہی میں آزادی ہےٴٴ۔ پرویز مشرف کے قائم کردہ نیب کے صدر دروازے پر کندہ تھا۔
آدمی ہے وہ بھلا، در پہ جو رہے پڑا

چنانچہ جن مصفا ہستیوں نے پرویز مشرف کی چوکھٹ پر سجدہِ سہو کیا، وہ دھل دھلا کر ایسے پاک صاف ہو گئے جیسے شیر خوار بچہ۔ تاہم کچھ ایسے فتنہ پرور اور بدعنوان لوگ تھے جنہوں نے جیلیں کاٹیں، جن پر تشدد کیا گیا، لیکن وہ اصلاح پر مائل نہیں ہوئے۔ آج کل قوم کو انہی عناصر کا احتساب مطلوب ہے۔ Continue reading

Advertisements